جامع الترمذي حدیث نمبر: 2490
Jami at-Tirmidhi 2490
کتاب #38: کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
46: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ زَيْدٍ التَّغْلَبِيِّ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَقْبَلَهُ الرَّجُلُ فَصَافَحَهُ لَا يَنْزِعُ يَدَهُ مِنْ يَدِهِ حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ يَنْزِعُ، وَلَا يَصْرِفُ وَجْهَهُ عَنْ وَجْهِهِ حَتَّى يَكُونَ الرَّجُلُ هُوَ الَّذِي يَصْرِفُهُ، وَلَمْ يُرَ مُقَدِّمًا رُكْبَتَيْهِ بَيْنَ يَدَيْ جَلِيسٍ لَهُ " , قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب کوئی شخص آتا اور آپ سے مصافحہ کرتا تو آپ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نہیں نکالتے جب تک وہ شخص خود اپنا ہاتھ نہ نکال لیتا ، اور آپ اپنا رخ اس کی طرف سے نہیں پھیرتے ، جب تک کہ وہ خود اپنا رخ نہ پھیر لیتا ، اور آپ نے اپنے کسی ساتھی کے سامنے کبھی پاؤں نہیں پھیلائے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2490]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف إلا جملة المصافحة فهي ثابتة، ابن ماجة (3716)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2490) إسناده ضعيف / جه 3716 ¤ زيد العمي: ضعيف (تقدم: 1442) وتلميذه عمران بن زيد: لين (تق: 5156) وللحديث شاهد ضعيف عند أبى داود: 4794
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الأدب 21 (3716) (تحفة الأشراف: 841) (ضعیف) (سند میں زید العمی ضعیف راوی ہیں، مگر مصافحہ والا ٹکڑا دیگر احادیث سے ثابت ہے)