جامع الترمذي حدیث نمبر: 2464
Jami at-Tirmidhi 2464
کتاب #38: کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
30: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: " ابْتُلِينَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالضَّرَّاءِ فَصَبَرْنَا، ثُمَّ ابْتُلِينَا بِالسَّرَّاءِ بَعْدَهُ فَلَمْ نَصْبِرْ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تکلیف اور تنگی میں آزمائے گئے تو اس پر ہم نے صبر کیا ، پھر آپ کے بعد کی حالت میں کشادگی اور خوشی میں آزمائے گئے تو ہم صبر نہ کر سکے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2464]
💡 وضاحت:
۱؎: مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب ہم بے انتہا مشقت و پریشانی کی زندگی گزار رہے تھے تو اس وقت ہم نے صبر سے کام لیا، لیکن آپ کے بعد جب ہمارے لیے مال و اسباب کی کثرت ہو گئی تو ہم گھمنڈ و تکبر میں مبتلا ہو گئے اور اترا گئے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2464) إسناده ضعيف ¤ الزهري مدلس وعنعن (تقدم:440) وللحديث شواهد ضعيفه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 9719) (صحیح الإسناد)