جامع الترمذي حدیث نمبر: 2457
Jami at-Tirmidhi 2457
کتاب #38: کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
23: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ ثُلُثَا اللَّيْلِ قَامَ , فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا اللَّهَ، اذْكُرُوا اللَّهَ جَاءَتِ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ "، قَالَ أُبَيٌّ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أُكْثِرُ الصَّلَاةَ عَلَيْكَ فَكَمْ أَجْعَلُ لَكَ مِنْ صَلَاتِي؟ فَقَالَ: " مَا شِئْتَ "، قَالَ: قُلْتُ: الرُّبُعَ؟ قَالَ: " مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ " , قُلْتُ: النِّصْفَ؟ قَالَ: " مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ " , قَالَ: قُلْتُ: فَالثُّلُثَيْنِ؟ قَالَ: " مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ " , قُلْتُ: أَجْعَلُ لَكَ صَلَاتِي كُلَّهَا , قَالَ: " إِذًا تُكْفَى هَمَّكَ وَيُغْفَرُ لَكَ ذَنْبُكَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب دو تہائی رات گزر جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے اور فرماتے : لوگو ! اللہ کو یاد کرو ، اللہ کو یاد کرو ، کھڑکھڑانے والی آ گئی ہے اور اس کے ساتھ ایک دوسری آ لگی ہے ، موت اپنی فوج لے کر آ گئی ہے ۔ موت اپنی فوج لے کر آ گئی ہے “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں آپ پر بہت صلاۃ ( درود ) پڑھا کرتا ہوں سو اپنے وظیفے میں آپ پر درود پڑھنے کے لیے کتنا وقت مقرر کر لوں ؟ آپ نے فرمایا : ” جتنا تم چاہو “ ، میں نے عرض کیا چوتھائی ؟ آپ نے فرمایا : ” جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے “ ، میں نے عرض کیا : آدھا ؟ آپ نے فرمایا : ” جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے ، میں نے عرض کیا دو تہائی ؟ “ آپ نے فرمایا : ” جتنا تم چاہو اور اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے ، میں نے عرض کیا : وظیفے میں پوری رات آپ پر درود پڑھا کروں ؟ ۔ آپ نے فرمایا : ” اب یہ درود تمہارے سب غموں کے لیے کافی ہو گا اور اس سے تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2457]
قال الشيخ الألباني:
حسن، الصحيحة (954)، فضل الصلاة على النبى صلى الله عليه وسلم رقم (13 و 14)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2457) إسناده ضعيف ¤ سفيان الثوري عنعن (تقدم:746)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 30)، وانظر مسند احمد (5/135) (حسن)