جامع الترمذي حدیث نمبر: 2418
Jami at-Tirmidhi 2418
کتاب #38: کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
2: باب مَا جَاءَ فِي شَأْنِ الْحِسَابِ وَالْقِصَاصِ
باب: قیامت کے دن حساب اور قصاص کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟ " قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُفْلِسُ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاتِهِ وَصِيَامِهِ وَزَكَاتِهِ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا وَقَذَفَ هَذَا وَأَكَلَ مَالَ هَذَا وَسَفَكَ دَمَ هَذَا وَضَرَبَ هَذَا، فَيَقْعُدُ فَيَقْتَصُّ هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْتَصَّ مَا عَلَيْهِ مِنَ الْخَطَايَا أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا : ” کیا تم لوگوں کو معلوم ہے کہ مفلس کسے کہتے ہیں ؟ “ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے یہاں مفلس اسے کہتے ہیں جس کے پاس درہم و دینار اور ضروری سامان زندگی نہ ہو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہماری امت میں مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن روزہ ، نماز اور زکاۃ کے ساتھ اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہو گی ، کسی پہ تہمت باندھی ہو گی ، کسی کا مال کھایا ہو گا ، کسی کا خون بہایا ہو گا ، اور کسی کو مارا ہو گا ، پھر اسے سب کے سامنے بٹھایا جائے گا اور بدلے میں اس کی نیکیاں مظلوموں کو دے دی جائیں گی ، پھر اگر اس کے ظلموں کا بدلہ پورا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو مظلوموں کے گناہ لے کر اس پر رکھ دیے جائیں گے اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2418]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس کی ساری نیکیاں آخرت میں چھین لی جائیں، اس سے بدلہ لینے والے باقی رہ جائیں، اور اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں، یہی حقیقی مفلس ہے، باقی وہ دنیاوی مفلس جو مال و دولت کی کمی کی وجہ سے مفلس و بے چارگی کی زندگی گزارتا ہے، تو یہ ایسا ہے کہ اس کی زندگی کے سدھر نے کا امکان ہے، اور اگر نہیں بھی سدھری تو اس کا یہ معاملہ اس کی موت تک ہے، کیونکہ مرنے کے بعد اسے ایک نئی زندگی ملنے والی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (845)، أحكام الجنائز (4)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/البر والصلة 15 (2581) (تحفة الأشراف: 14073)، و مسند احمد (2/303، 334، 372) (صحیح)