جامع الترمذي حدیث نمبر: 2403
Jami at-Tirmidhi 2403
کتاب #37: کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
57: باب مَا جَاءَ فِي ذَهَابِ الْبَصَرِ
باب: نابینا کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَال: سَمِعْتُ أَبِي , يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ أَحَدٍ يَمُوتُ إِلَّا نَدِمَ "، قَالُوا: وَمَا نَدَامَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " إِنْ كَانَ مُحْسِنًا نَدِمَ أَنْ لَا يَكُونَ ازْدَادَ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا نَدِمَ أَنْ لَا يَكُونَ نَزَعَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَيَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ قَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ شُعْبَةُ، وَهُوَ يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ مَدَنِيٌّ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو بھی مرتا ہے وہ نادم و شرمندہ ہوتا ہے “ ، صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! شرم و ندامت کی کیا وجہ ہے ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اگر وہ شخص نیک ہے تو اسے اس بات پر ندامت ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ نیکی نہ کر سکا ، اور اگر وہ بد ہے تو نادم ہوتا ہے کہ میں نے بدی سے اپنے آپ کو نکالا کیوں نہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- یحییٰ بن عبیداللہ کے بارے میں شعبہ نے کلام کیا ہے ، اور یہ یحییٰ بن عبیداللہ بن موہب مدنی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2403]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا، المشكاة (5545)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2403) إسناده ضعيف جدًا ¤ يحيي بن عبيد الله: متروك (تقدم: 1929)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 14123) (ضعیف جداً) (سند میں یحییٰ بن عبید اللہ متروک الحدیث راوی ہے)