جامع الترمذي حدیث نمبر: 240
Jami at-Tirmidhi 240
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
65: باب مَا جَاءَ فِي نَشْرِ الأَصَابِعِ عِنْدَ التَّكْبِيرِ
باب: اللہ اکبر کہتے وقت انگلیاں کھلی رکھنے کا بیان۔
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِمْعَانَ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ الْيَمَانِ، وَحَدِيثُ يَحْيَى بْنِ الْيَمَانِ خَطَأٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح اٹھاتے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ © عبداللہ بن عبدالرحمٰن ( دارمی ) کا کہنا ہے کہ یہ یحییٰ بن یمان کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ، اور یحییٰ بن یمان کی حدیث غلط ہے ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 240]
💡 وضاحت:
۱؎: ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ میرے والد (ابوحاتم رازی) کہتے ہیں کہ یحییٰ کو اس میں وہم ہوا ہے، وہ «إذا قام إلى الصلاة رفع إليه مداً» کہنا چاہ رہے تھے لیکن ان سے چوک ہو گئی انہوں نے غلطی سے «إذا كبّر للصلاة نشر أصابعه» کی روایت کر دی، ابن ابی ذئب کے تلامذہ میں سے ثقات نے «إذا قام إلى الصلاة مدّاً» ہی کے الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صفة الصلاة (67)، التعليق على ابن خزيمة (459)، صحيح أبي داود (735)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الصلاة 119 (753)، سنن النسائی/الافتتاح 6 (884)، (تحفة الأشراف: 13081)، مسند احمد (2/375، 434، 500)، سنن الدارمی/الصلاة 32 (1273) (صحیح)