جامع الترمذي حدیث نمبر: 2398
Jami at-Tirmidhi 2398
کتاب #37: کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
56: باب مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْبَلاَءِ
باب: مصیبت میں صبر کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً؟ قَالَ: " الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ، فَالْأَمْثَلُ، فَيُبْتَلَى الرَّجُلُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَإِنْ كَانَ دِينُهُ صُلْبًا اشْتَدَّ بَلَاؤُهُ، وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ ابْتُلِيَ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ، فَمَا يَبْرَحُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَتْرُكَهُ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ مَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ , وَأُخْتِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً؟ قَالَ: الْأَنْبِيَاءُ ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ.
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! سب سے زیادہ مصیبت کس پر آتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” انبیاء و رسل پر ، پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں ، پھر جو ان کے بعد ہیں ، بندے کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے ، اگر بندہ اپنے دین میں سخت ہے تو اس کی مصیبت بھی سخت ہوتی ہے اور اگر وہ اپنے دین میں نرم ہوتا ہے تو اس کے دین کے مطابق مصیبت بھی ہوتی ہے ، پھر مصیبت بندے کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہے ، یہاں تک کہ بندہ روئے زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اس باب میں ابوہریرہ اور حذیفہ بن یمان کی بہن فاطمہ رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ مصیبتیں کس پر زیادہ آتی ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انبیاء و رسل پر پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں پھر جو ان کے بعد میں ہوں “ ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2398]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ جو بندہ اپنے ایمان میں جس قدر مضبوط ہو گا اسی قدر اس کی ابتلاء و آزمائش بھی ہو گی، لیکن اس ابتلاء و آزمائش میں اس کے لیے ایک بھلائی کا بھی پہلو ہے کہ اس سے اس کے گناہ معاف ہوتے رہیں گے، اور بندہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح، ابن ماجة (4023)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الفتن 23 (4023) (تحفة الأشراف: 3934)، وسنن الدارمی/الرقاق 67 (2825)، و مسند احمد (1/172، 174، 180، 185) (حسن صحیح)