جامع الترمذي حدیث نمبر: 2395
Jami at-Tirmidhi 2395
کتاب #37: کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
55: باب مَا جَاءَ فِي صُحْبَةِ الْمُؤْمِنِ
باب: مومن کی صحبت اختیار کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ غَيْلَانَ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ سَالِمٌ، أَوْ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا، وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” مومن کے سوا کسی کی صحبت اختیار نہ کرو ، اور تمہارا کھانا صرف متقی ہی کھائے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2395]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں اشارہ اس طرف ہے کہ ایک مسلمان دنیا میں رہتے ہوئے اچھے اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرے، یہاں تک کہ کھانے کی دعوت دیتے وقت ایسے لوگوں کا انتخاب کرے جو متقی و پرہیزگار ہوں، کیونکہ دعوت سے آپسی الفت و محبت میں اضافہ ہوتا ہے اس لیے کوشش یہ ہو کہ الف و محبت کسی پرہیزگار شخص سے ہو۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، المشكاة (5018)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأدب 19 (4832) (تحفة الأشراف: 4049 و 4399)، و مسند احمد (3/38) (حسن)