📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری (كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 2388 Jami at-Tirmidhi 2388
کتاب #37: کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
51: باب مَا جَاءَ فِي حُسْنِ الظَّنِّ بِاللَّهِ
باب: اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں جیسا وہ گمان مجھ سے رکھے ، اور میں اس کے ساتھ ہوں جب بھی وہ مجھے پکارتا ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2388]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث میں اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھنے کی ترغیب ہے، لیکن عمل کے بغیر کسی بھی چیز کی امید نہیں کی جا سکتی ہے، گویا اللہ کا معاملہ بندوں کے ساتھ ان کے عمل کے مطابق ہو گا، بندے کا عمل اگر اچھا ہے تو اس کے ساتھ اچھا معاملہ اور برے عمل کی صورت میں اس کے ساتھ برا معاملہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الدعاء والذکر 6 (2675) (تحفة الأشراف: 14821) (وراجع أیضا: صحیح البخاری/التوحید 15 (7405)، و 35 (5537)، وصحیح مسلم/التوبة 1 (2675)، وماعند المؤلف في الدعوات برقم 3603)، وسنن ابن ماجہ/الأدب 58 (3822)، و مسند احمد (2/251)، 391، 413، 445، 480، 482، 516) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #2388
2387 2387 2388 2389 2389
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ