جامع الترمذي حدیث نمبر: 2373
Jami at-Tirmidhi 2373
کتاب #37: کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
40: باب مَا جَاءَ أَنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ
باب: دل کی بے نیازی اور استغناء اصل دولت ہے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلِ بْنِ قُرَيْشٍ الْيَامِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو حَصِينٍ اسْمُهُ: عُثْمَانُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَسَدِيُّ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مالداری ساز و سامان کی کثرت کا نام نہیں ہے ، بلکہ اصل مالداری نفس کی مالداری ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2373]
💡 وضاحت:
۱؎: انسان کے پاس جو کچھ ہے اسی پر صابر و قانع رہ کر دوسروں سے بے نیاز رہنا اور ان سے کچھ نہ طلب کرنا درحقیقت یہی نفس کی مالداری ہے، گویا بندہ اللہ کی تقسیم پر راضی رہے، دوسروں کے مال و دولت کو للچائی ہوئی نظر سے نہ دیکھے اور زیادتی کی حرص نہ رکھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (4137)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الرقاق 15 (6446)، صحیح مسلم/الزکاة 40 (1051)، سنن ابن ماجہ/الزہد 9 (4137) (تحفة الأشراف: 12845)، وحإ (2/243، 261، 315، 390، 438، 443، 539، 540) (صحیح)