جامع الترمذي حدیث نمبر: 2364
Jami at-Tirmidhi 2364
کتاب #37: کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
38: باب مَا جَاءَ فِي مَعِيشَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلِهِ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی معاشی زندگی کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ , أَنَّهُ قِيلَ لَهُ: " أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ " يَعْنِي الْحُوَّارَى، فَقَالَ سَهْلٌ: مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ، فَقِيلَ لَهُ: هَلْ كَانَتْ لَكُمْ مَنَاخِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا كَانَتْ لَنَا مَنَاخِلُ، قِيلَ: فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ بِالشَّعِيرِ؟ قَالَ: كُنَّا نَنْفُخُهُ فَيَطِيرُ مِنْهُ مَا طَارَ ثُمَّ نُثَرِّيهِ فَنَعْجِنُهُ , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ.
سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میدہ کی روٹی کھائی ہے ؟ سہل نے جواب دیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میدہ کی روٹی دیکھی بھی نہیں یہاں تک کہ رحلت فرما گئے ۔ پھر ان سے پوچھا گیا : کیا آپ لوگوں کے پاس عہد نبوی میں چھلنی تھی ؟ کہا ہم لوگوں کے پاس چھلنی نہیں تھی ۔ پھر ان سے پوچھا گیا کہ آپ لوگ جو کے آٹے کو کیسے صاف کرتے تھے ؟ تو کہا : پہلے ہم اس میں پھونکیں مارتے تھے تو جو اڑنا ہوتا وہ اڑ جاتا تھا پھر ہم اس میں پانی ڈال کر اسے گوندھ لیتے تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس حدیث کو مالک بن انس نے بھی ابوحازم سے روایت کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2364]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3335)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأطعمة 23 (5413) (وانظر أیضا: 5410)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 44 (3335) (تحفة الأشراف: 4704)، و مسند احمد (5/332) (صحیح)