جامع الترمذي حدیث نمبر: 2361
Jami at-Tirmidhi 2361
کتاب #37: کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
38: باب مَا جَاءَ فِي مَعِيشَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلِهِ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی معاشی زندگی کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی «اللهم اجعل رزق آل محمد قوتا» ” اے اللہ ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کو صرف اتنی روزی دے جس سے ان کے جسم کا رشتہ برقرار رہ سکے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2361]
💡 وضاحت:
۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی زندگی گزارنا پسند کرتے تھے جو دنیوی آلائشوں اور آرام و آسائش سے پاک ہو، کیونکہ بعثت نبوی کا مقصد ہی یہ تھا کہ وہ لوگوں کو دنیا کے ہنگاموں، مشاغل اور زیب و زینت سے ہٹا کر آخرت کی طرف متوجہ کریں، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور اپنے گھر والوں کے حق میں مذکورہ دعا فرمائی، آپ کی اس دعا سے علماء اور داعیان اسلام کو نصیحت حاصل کرنا چاہیئے کہ ہماری زندگی سادگی کا نمونہ اور دنیاوی تکلفات سے پاک ہو، اگر اللہ ہمیں مال و دولت سے نوازے تو مالدار صحابہ کرام کا کردار ہمارے پیش نظر ہونا چاہیئے تاہم مال و دولت کا زیادہ سے زیادہ حصول ہماری زندگی کا مقصد نہیں ہونا چاہیئے اور نہ اس کے لیے ہر قسم کا حربہ و ہتھکنڈہ استعمال کرنا چاہیئے خواہ اس حربے اور ہتھکنڈے کا استعمال کسی دینی کام کے آڑ میں ہی کیوں نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (4136)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الرقاق 17 (6460)، صحیح مسلم/الزکاة 43 (1055)، والزہد 1 (1055/18)، سنن ابن ماجہ/الزہد 9 (4136) (تحفة الأشراف: 14898)، و مسند احمد (2/232، 446، 481) (صحیح)