جامع الترمذي حدیث نمبر: 2351
Jami at-Tirmidhi 2351
کتاب #37: کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
37: باب مَا جَاءَ أَنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ
باب: مہاجر فقراء جنت میں مالدار مہاجر سے پہلے جائیں گے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِخَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ " , وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَجَابِرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہاجر فقراء جنت میں مالدار مہاجر سے پانچ سو سال پہلے داخل ہوں گے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابوہریرہ ، عبداللہ بن عمرو اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2351]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ اس لیے کہ غریب مہاجر کے پاس چونکہ مال کم تھا، اس لیے انہیں حساب و کتاب میں زیادہ تاخیر نہیں ہو گی، جب کہ مالدار مہاجرین کو مال کے حساب میں بہت تاخیر ہو گی، اس سے غریب کی فضیلت معلوم ہوئی۔ آخرت کا آدھا دن دنیا کے پانچ سو سال کے برابر ہو گا، اس لحاظ سے جس حدیث میں آدھے دن کا ذکر ہے اس سے آخرت کا آدھا دن مراد ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (4123)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2351) إسناده ضعيف / جه 4123 ¤ عطية العوفي ضعيف (تقدم: 477) وسليمان الأعمش عنعن (تقدم: 169) و حديث مسلم (2979) و الحديث الآتي (الأصل:2354) يغنيان عنه
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الزہد 6 (4123) (تحفة الأشراف: 4207) (صحیح) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)