جامع الترمذي حدیث نمبر: 2329
Jami at-Tirmidhi 2329
کتاب #37: کتاب: زہد، ورع، تقوی اور پرہیز گاری
21: باب مَا جَاءَ فِي طُولِ الْعُمُرِ لِلْمُؤْمِنِ
باب: مومن کے حق میں لمبی عمر کے بہتر ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ خَيْرُ النَّاسِ؟ قَالَ: " مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ "، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَجَابِرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
عبداللہ بن بسر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! لوگوں میں سب سے بہتر شخص کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” جس کی عمر لمبی ہو اور عمل نیک ہو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2329]
💡 وضاحت:
۱؎: عمر لمبی ہو گی اور عمل اچھا ہو گا تو نیکیاں زیادہ ہوں گی، اس لیے یہ مومن کے حق میں بہتر ہے، اس کے برعکس اگر عمر لمبی ہو اور اعمال برے ہوں تو یہ اور برا معاملہ ہو گا، «أعاذنا الله منه» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (1836)، المشكاة (5285 / التحقيق الثانى)، الروض النضير (926)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 5197)، مسند احمد (4/188، 190) (صحیح)