جامع الترمذي حدیث نمبر: 23
Jami at-Tirmidhi 23
کتاب #1: کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
18: بَابُ مَا جَاءَ فِي السِّوَاكِ
باب: مسواک کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلَأَخَّرْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ ". قال: فَكَانَ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ يَشْهَدُ الصَّلَوَاتِ فِي الْمَسْجِدِ وَسِوَاكُهُ عَلَى أُذُنِهِ مَوْضِعَ الْقَلَمِ مِنْ أُذُنِ الْكَاتِبِ، لَا يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ إِلَّا أُسْتَنَّ ثُمَّ رَدَّهُ إِلَى مَوْضِعِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اگر مجھے اپنی امت کو حرج و مشقت میں مبتلا کرنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر صلاۃ کے وقت ( وجوباً ) مسواک کرنے کا حکم دیتا ، نیز میں عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کرتا ( راوی حدیث ) ابوسلمہ کہتے ہیں : اس لیے زید بن خالد رضی الله عنہ نماز کے لیے مسجد آتے تو مسواک ان کے کان پر بالکل اسی طرح ہوتی جیسے کاتب کے کان پر قلم ہوتا ہے ، وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو مسواک کرتے پھر اسے اس کی جگہ پر واپس رکھ لیتے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 23]
💡 وضاحت:
۱؎: ہر نماز کے وقت مسواک مسنون ہے، «عند كل صلاة» ”ہر نماز کے وقت“ سے جو مقصد ہے وہ مسجد میں داخل ہو کر، وضو خانہ میں، یا نماز کے وقت وضو کے ساتھ مسواک کر لینے سے بھی پورا ہو جاتا ہے، یہ ہندوستان اور پاکستان کے باشندے عموماً نیم یا کیکر کی مسواک کرتے ہیں اور عرب میں پیلو کی مسواک کا استعمال بہت زیادہ ہے، اور یہاں لوگ نماز کے وقت بکثرت مسواک کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (37)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف / د 47
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الطہارة 25 (47) (تحفة الأشراف: 3766) مسند احمد (4/116) (صحیح)