جامع الترمذي حدیث نمبر: 2278
Jami at-Tirmidhi 2278
کتاب #35: کتاب: خواب کے آداب و احکام
6: باب مَا جَاءَ فِي تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا
باب: خواب کی تعبیر کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، قَال: سَمِعْتُ وَكِيعَ بْنَ عُدُسٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ أَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ، وَهِيَ عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ يَتَحَدَّثْ بِهَا، فَإِذَا تَحَدَّثَ بِهَا سَقَطَتْ، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَلَا يُحَدِّثُ بِهَا إِلَّا لَبِيبًا أَوْ حَبِيبًا ".
ابورزین عقیلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن کا خواب نبوت کا چالیسواں حصہ ہے اور خواب کی جب تک تعبیر نہ بیان کی جائے وہ ایک پرندے کے پنجہ میں ہوتا ہے ، پھر جب تعبیر بیان کر دی جاتی ہے تو وہ واقع ہو جاتا ہے ۱؎ “ ، ابورزین کہتے ہیں : میرا خیال ہے آپ نے یہ بھی فرمایا : ” خواب صرف اس سے بیان کرو جو عقلمند ہو یا جس سے تمہاری دوستی ہو “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2278]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس خواب کی تعبیر جب تک بیان نہیں کی جاتی یہ خواب معلق رہتا ہے، اس کے لیے ٹھہراؤ نہیں ہوتا، تعبیر آ جانے کے بعد ہی اسے قرار حاصل ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (120)، المشكاة (4622 / التحقيق الثانى)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأدب 96 (5020)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا 6 (3914) (تحفة الأشراف: 11174)، و سنن الدارمی/الرؤیا 11 (2194) (صحیح)