جامع الترمذي حدیث نمبر: 2273
Jami at-Tirmidhi 2273
کتاب #35: کتاب: خواب کے آداب و احکام
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا سورة يونس آية 64، فَقَالَ: مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ غَيْرُكَ إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ غَيْرُكَ مُنْذُ أُنْزِلَتْ، هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
عطاء بن یسار مصر کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو الدرداء رضی الله عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول «لهم البشرى في الحياة الدنيا» ” ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بشارت ہے “ ( یونس : ۶۴ ) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا ہے ، تمہارے سوا صرف ایک آدمی نے مجھ سے پوچھا ہے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : ” جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے اس کے بارے میں تمہارے سوا کسی نے نہیں پوچھا ، اس سے مراد نیک اور اچھے خواب ہیں جسے مسلمان دیکھتا ہے یا اسے دکھایا جاتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2273]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (1786)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2273) إسناده ضعيف ¤ رجل من أهل مصر: مجهول والحديث السابق (الأصل: 22729) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، وأعادہ في تفسیر یونس (3106) (تحفة الأشراف: 10977) (صحیح) (سند میں ایک مبہم راوی ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، دیکھیے الصحیحہ رقم: 1786)