جامع الترمذي حدیث نمبر: 2255
Jami at-Tirmidhi 2255
کتاب #34: کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں
68: باب مِنْهُ
باب: ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا "، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَصَرْتُهُ مَظْلُومًا، فَكَيْفَ أَنْصُرُهُ ظَالِمًا؟ قَالَ: " تَكُفُّهُ عَنِ الظُّلْمِ فَذَاكَ نَصْرُكَ إِيَّاهُ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم “ ، صحابہ نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے مظلوم ہونے کی صورت میں تو اس کی مدد کی لیکن ظالم ہونے کی صورت میں اس کی مدد کیسے کروں ؟ آپ نے فرمایا : ” اسے ظلم سے باز رکھو ، اس کے لیے یہی تمہاری مدد ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2255]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (2449)، الروض النضير (32)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المظالم 4 (2443، 2444)، والإکراہ 7 (6952)، (تحفة الأشراف: 751)، و مسند احمد (3/99، 201، 224) (صحیح)