📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں (كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: ابن صائد (ابن صیاد) کا بیان۔
عربی:
اردو:
63: باب مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ ابْنِ صَائِدٍ
باب: ابن صائد (ابن صیاد) کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَهُوَ غُلَامٌ، فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ " فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ، قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَشْهَدُ أَنْتَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ "، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَأْتِيكَ؟ " قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُلِّطَ عَلَيْكَ الْأَمْرُ "، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا وَخَبَأَ لَهُ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ سورة الدخان آية 10 "، فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: هُوَ الدُّخُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ "، قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ يَكُ حَقًّا فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَا يَكُنْهُ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ "، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: يَعْنِي الدَّجَّالَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ جس میں عمر بن خطاب بھی تھے ابن صیاد کے پاس سے گزرے ، اس وقت وہ بچوں کے ساتھ بنی مغالہ کے ٹیلوں کے پاس کھیل رہا تھا ، وہ ایک چھوٹا بچہ تھا اس لیے اسے آپ کی آمد کا احساس اس وقت تک نہ ہو سکا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کی پیٹھ پر مارا ، پھر فرمایا : ” کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ “ ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھ کر کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں ، پھر ابن صیاد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ہوں “ ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : ” تمہارے پاس ( غیب کی ) کون سی چیز آتی ہے ؟ “ ابن صیاد نے کہا : میرے پاس ایک سچا اور ایک جھوٹا آتا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے اوپر تیرا معاملہ مشتبہ ہو گیا ہے “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہارے لیے ( دل میں ) ایک بات چھپاتا ہوں “ اور آپ نے آیت : «يوم تأتي السماء بدخان مبين» ۱؎ چھپا لی ، ابن صیاد نے کہا : وہ ( چھپی ہوئی چیز ) «دخ» ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھٹکار ہو تجھ پر تو اپنی حد سے آگے نہیں بڑھ سکے گا “ ، عمر رضی الله عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! مجھے اجازت دیجئیے میں اس کی گردن اڑا دوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر وہ حقیقی دجال ہے تو تم اس پر غالب نہیں آ سکتے اور اگر وہ نہیں ہے تو اسے قتل کرنے میں کوئی بھلائی نہیں ہے “ ۔ عبدالرزاق کہتے ہیں : «حقا» سے آپ کی مراد دجال ہے ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2249]
💡 وضاحت:
۱؎: آپ اس دن کے منتظر رہیں جب کہ آسمان ظاہر دھواں لائے گا۔
۲؎: بعض صحابہ کرام یہ سمجھتے تھے کہ یہی وہ مسیح دجال ہے جس کے متعلق قرب قیامت میں ظہور کی خبر دی گئی ہے، لیکن فاطمہ بنت قیس کی روایت سے جس میں تمیم داری نے اپنے سمندری سفر کا حال بیان کیا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ قطعیت اس بات میں ہے کہ ابن صیاد دجال اکبر نہیں بلکہ کوئی اور ہے، ابن صیاد تو ان دجاجلہ، کذابین میں سے ایک ہے جن کے ظہور کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی، اور ان میں سے اکثر کا ظہور ہو چکا ہے، رہے وہ صحابہ جنہوں نے وثوق کے ساتھ قسم کھا کر ابن صیاد کو دجال کہا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی اسے دجال کہا گیا اور آپ خاموش رہے تو یہ سب تمیم داری والے واقعہ سے پہلے کی باتیں ہیں۔
قال الشيخ الألباني: **
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 79 (1354)، والجھاد 178 (3055)، والأدب 97 (6618)، صحیح مسلم/الفتن 19 (2930)، سنن ابی داود/ الملاحم 16 (4329) (تحفة الأشراف: 6932)، و مسند احمد (2/148) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #2249
2247 2248 2249 2250 2251

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#2246 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَض...
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حج یا عمرہ میں ابن صائد ( ابن صیاد ) میرے ساتھ تھا ، لوگ آگے...
#2247 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَض...
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن صائد سے مدینہ کے کسی راستہ م...
#2248 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَل...
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دجال کے باپ اور ماں تیس ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ