جامع الترمذي حدیث نمبر: 2245
Jami at-Tirmidhi 2245
کتاب #34: کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں
62: باب مَا جَاءَ فِي قَتْلِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ الدَّجَّالَ
باب: عیسیٰ بن مریم کا دجال کو قتل کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَ أُمَّتَهُ الْأَعْوَرَ الْكَذَّابَ، أَلَا إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر "، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی نبی ایسا نہیں تھا جس نے اپنی امت کو کانے اور جھوٹے ( دجال ) سے نہ ڈرایا ہو ، سنو ! وہ کانا ہے ، جب کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے ، اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ ” «ک» ، «ف» ، «ر» “ لکھا ہوا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2245]
قال الشيخ الألباني:
صحيح تخريج الطحاوية (762)، الصحيحة (2457)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الفتن 26 (7131)، والتوحید 17 (7407)، صحیح مسلم/الفتن 20 (2933)، سنن ابی داود/ الملاحم 14 (4316) (تحفة الأشراف: 1241) (صحیح)