جامع الترمذي حدیث نمبر: 2210
Jami at-Tirmidhi 2210
کتاب #34: کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں
38: باب مَا جَاءَ فِي عَلاَمَةِ حُلُولِ الْمَسْخِ وَالْخَسْفِ
باب: زمین دھنسنے اور صورت تبدیل ہونے کی علامت کا بیان۔
حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ أَبُو فَضَالَةَ الشَّامِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا فَعَلَتْ أُمَّتِي خَمْسَ عَشْرَةَ خَصْلَةً حَلَّ بِهَا الْبَلَاءُ "، فَقِيلَ: وَمَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " إِذَا كَانَ الْمَغْنَمُ دُوَلًا، وَالْأَمَانَةُ مَغْنَمًا، وَالزَّكَاةُ مَغْرَمًا، وَأَطَاعَ الرَّجُلُ زَوْجَتَهُ وَعَقَّ أُمَّهُ، وَبَرَّ صَدِيقَهُ وَجَفَا أَبَاهُ، وَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ فِي الْمَسَاجِدِ، وَكَانَ زَعِيمُ الْقَوْمِ أَرْذَلَهُمْ، وَأُكْرِمَ الرَّجُلُ مَخَافَةَ شَرِّهِ، وَشُرِبَتِ الْخُمُورُ، وَلُبِسَ الْحَرِيرُ، وَاتُّخِذَتِ الْقَيْنَاتُ وَالْمَعَازِفُ، وَلَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا، فَلْيَرْتَقِبُوا عِنْدَ ذَلِكَ رِيحًا حَمْرَاءَ أَوْ خَسْفًا وَمَسْخًا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ غَيْرَ الْفَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ، وَالْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ قَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَضَعَّفَهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، وَقَدْ رَوَاهُ عَنْهُ وَكِيعٌ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ.
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب میری امت پندرہ چیزیں کرنے لگے تو اس پر مصیبت نازل ہو گی “ ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! وہ کون کون سی چیزیں ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” جب مال غنیمت کو دولت ، امانت کو غنیمت اور زکاۃ کو تاوان سمجھا جائے ، آدمی اپنی بیوی کی فرمانبرداری کرے ، اور اپنی ماں کی نافرمانی کرے گا ، اپنے دوست پر احسان کرے اور اپنے باپ پر ظلم کرے ، مساجد میں آوازیں بلند ہونے لگیں ، رذیل آدمی قوم کا لیڈر بن جائے گا ، شر کے خوف سے آدمی کی عزت کی جائے ، شراب پی جائے ، ریشم پہنا جائے ، ( گھروں میں ) گانے والی لونڈیاں اور باجے رکھے جائیں اور اس امت کے آخر میں آنے والے پہلے والوں پر لعنت بھیجیں تو اس وقت تم سرخ آندھی یا زمین دھنسنے اور صورت تبدیل ہونے کا انتظار کرو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے علی بن ابوطالب کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- ہم فرج بن فضالہ کے علاوہ دوسرے کسی کو نہیں جانتے جس نے یہ حدیث یحییٰ بن سعید انصاری سے روایت کی ہو اور فرج بن فضالہ کے بارے میں کچھ محدثین نے کلام کیا ہے اور ان کے حافظے کے تعلق سے انہیں ضعیف کہا ہے ، ان سے وکیع اور کئی ائمہ نے روایت حدیث کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2210]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، المشكاة (5451) // ضعيف الجامع الصغير (608) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2210) إسناده ضعيف ¤ الفرج بن فضالة الشامي: ضعيف (د 484)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 10273) (ضعیف) (سند میں ”فرج بن فضالة“ ضعیف ہیں، اور ”محمد بن عمرو بن علی“ مجہول ہیں)