جامع الترمذي حدیث نمبر: 2206
Jami at-Tirmidhi 2206
کتاب #34: کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں
35: باب مِنْهُ
باب: فتنوں کے پھیلنے سے متعلق ایک پیش گوئی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَلْقَى مِنَ الْحَجَّاجِ، فَقَالَ: " مَا مِنْ عَامٍ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ "، سَمِعْتُ هَذَا مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
زبیر بن عدی کہتے ہیں کہ ہم لوگ انس بن مالک رضی الله عنہ کے گھر گئے اور ان سے حجاج کے مظالم کی شکایت کی ، تو انہوں نے کہا : ” آنے والا ہر سال ( گزرے ہوئے سال سے ) برا ہو گا ، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو “ ، اسے میں نے تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2206]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الصحيحة (1 / 10 و 1218)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الفتن 6 (7068) (تحفة الأشراف: 836) (صحیح)