جامع الترمذي حدیث نمبر: 2189
Jami at-Tirmidhi 2189
کتاب #34: کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں
25: باب فِي الأَثَرَةِ وَمَا جَاءَ فِيهِ
باب: ترجیح دینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا وَلَمْ تَسْتَعْمِلْنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
اسید بن حضیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے فلاں کو عامل بنا دیا اور مجھے عامل نہیں بنایا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ میرے بعد ( غلط ) ترجیح دیکھو گے ، لہٰذا تم اس پر صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے حوض کوثر پر ملو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2189]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الظلال (752 و 753)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/مناقب الأنصار 8 (3792)، والفتن 2 (7057)، صحیح مسلم/الإمارة 11 (1845)، سنن النسائی/آداب القضاة 4 (5385) (تحفة الأشراف: 148)، و مسند احمد (4/351، 352) (صحیح)