جامع الترمذي حدیث نمبر: 2189
Jami at-Tirmidhi 2189
کتاب #34: کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا وَلَمْ تَسْتَعْمِلْنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
اسید بن حضیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے فلاں کو عامل بنا دیا اور مجھے عامل نہیں بنایا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ میرے بعد ( غلط ) ترجیح دیکھو گے ، لہٰذا تم اس پر صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے حوض کوثر پر ملو “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2189]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الظلال (752 و 753)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/مناقب الأنصار 8 (3792)، والفتن 2 (7057)، صحیح مسلم/الإمارة 11 (1845)، سنن النسائی/آداب القضاة 4 (5385) (تحفة الأشراف: 148)، و مسند احمد (4/351، 352) (صحیح)