📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں (كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: امت محمدیہ گزری امتوں کے نقش قدم پر چلے گی۔
عربی:
اردو:
18: باب مَا جَاءَ لَتَرْكَبُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ
باب: امت محمدیہ گزری امتوں کے نقش قدم پر چلے گی۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا خَرَجَ إِلَى خُيْبَرَ، مَرَّ بِشَجَرَةٍ لِلْمُشْرِكِينَ، يُقَالُ لَهَا: ذَاتُ أَنْوَاطٍ، يُعَلِّقُونَ عَلَيْهَا أَسْلِحَتَهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لَهُمْ ذَاتُ أَنْوَاطٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سُبْحَانَ اللَّهِ، هَذَا كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى: اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ سورة الأعراف آية 138، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَرْكَبُنَّ سُنَّةَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو وَاقِدٍ اللَّيْثِيُّ اسْمُهُ الْحَارِثُ بْنُ عَوْفٍ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ.
ابوواقد لیثی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین کے لیے نکلے تو آپ کا گزر مشرکین کے ایک درخت کے پاس سے ہوا جسے ذات انواط کہا جاتا تھا ، اس درخت پر مشرکین اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے ۱؎ ، صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط مقرر فرما دیجئیے جیسا کہ مشرکین کا ایک ذات انواط ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سبحان اللہ ! یہ تو وہی بات ہے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہی تھی کہ ہمارے لیے بھی معبود بنا دیجئیے جیسا ان مشرکوں کے لیے ہے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم گزشتہ امتوں کی پوری پوری پیروی کرو گے “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- ابوواقد لیثی کا نام حارث بن عوف ہے ، ¤ ۳- اس باب میں ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2180]
💡 وضاحت:
۱؎: ذات انواط نامی درخت جھاؤ کی قسم سے تھا، مشرکین بطور حاجت برآری اس پر اپنا ہتھیار لٹکاتے اور اس درخت کے اردگرد اعتکاف کرتے تھے۔
۲؎: مفہوم یہ ہے کہ تم خلاف شرع نافرمانی کے کاموں میں اپنے سے پہلے کی امتوں کے نقش قدم پر چلو گے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق آج مسلمانوں کا حال حقیقت میں ایسا ہی ہے، چنانچہ یہود و نصاری اور مشرکین کی کون سی عادات و اطوار ہیں جنہیں مسلمانوں نے نہ اپنایا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ظلال الجنة (76)، المشكاة (5369)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 14516) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #2180
2178 2179 2180 2181 2182
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ