📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں (كتاب الفتن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: فتنہ کے وقت آدمی کو کیسا ہونا چاہئے؟
عربی:
اردو:
15: باب مَا جَاءَ كَيْفَ يَكُونُ الرَّجُلُ فِي الْفِتْنَةِ
باب: فتنہ کے وقت آدمی کو کیسا ہونا چاہئے؟
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أُمِّ مَالِكٍ الْبَهْزِيَّةِ، قَالَتْ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ خَيْرُ النَّاسِ فِيهَا، قَالَ: " رَجُلٌ فِي مَاشِيَتِهِ يُؤَدِّي حَقَّهَا، وَيَعْبُدُ رَبَّهُ، وَرَجُلٌ آخِذٌ بِرَأْسِ فَرَسِهِ يُخِيفُ الْعَدُوَّ، وَيُخِيفُونَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدَرِيِّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أُمِّ مَالِكٍ الْبَهْزِيَّةِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ام مالک بہزیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنے کا ذکر کیا اور فرمایا : ” وہ بہت جلد ظاہر ہو گا “ ، میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! اس وقت سب سے بہتر کون شخص ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ایک وہ آدمی جو اپنے جانوروں کے درمیان ہو اور ان کا حق ادا کرنے کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرتا ہو ، اور دوسرا وہ آدمی جو اپنے گھوڑے کا سر پکڑے ہو ، وہ دشمن کو ڈراتا ہو اور دشمن اسے ڈراتے ہوں “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ¤ ۲- لیث بن ابی سلیم نے بھی یہ حدیث «عن طاؤس عن أم مالك البهزية عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں ام مبشر ، ابو سعید خدری اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2177]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی فتنہ کے ظہور کے وقت ایسا آدمی سب سے بہتر ہو گا جو فتنہ کی جگہوں سے دور رہ کر اپنے جانوروں کے پالنے پوسنے میں مشغول ہو، اور ان کی وجہ سے اس پر جو شرعی واجبات و حقوق ہیں مثلاً زکاۃ و صدقات کی ادائیگی میں ان کا خاص خیال رکھتا ہو، ساتھ ہی رب العالمین کی اس کے حکم کے مطابق عبادت بھی کرتا ہو، اسی طرح وہ آدمی بھی بہتر ہے جو اپنے گھوڑے کے ساتھ کسی دور دراز جگہ میں رہ کر وہاں موجود دشمنوں کا مقابلہ کرتا ہو، انہیں خوف و ہراس میں مبتلا رکھتا ہو اور خود بھی ان سے خوف کھاتا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (698)، التعليق الرغيب (2 / 153)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (2177) إسناده ضعيف ¤ رجل مجھول (أو ھو ليث بن أبى سليم: ضعيف تقدم: 218) و روي الحاكم (446/6 ح 8380) عن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ”خير الناس فى الفتن رجل آخذ بعنان فرسه“ أو قال: ”برسن فرسه خلف أعداء الله يخيفھم ويخيفونه أو رجل معتزل فى باديته يؤدي حق الله تعالي الذى عليه“ وسنده حسن
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 18355) (صحیح) (سند میں ایک راوی مبہم ہے، لیکن شواہد کی بنا پر حدیث صحیح لغیرہ ہے)
جامع الترمذي • حدیث #2177
2175 2176 2177 2178 2179
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ