جامع الترمذي حدیث نمبر: 217
Jami at-Tirmidhi 217
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَتِي أَنْ يَجْمَعُوا حُزَمَ الْحَطَبِ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ، ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَى أَقْوَامٍ لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , وَأَبِي الدَّرْدَاءِ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَمُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ , وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُمْ قَالُوا: مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يُجِبْ فَلَا صَلَاةَ لَهُ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: هَذَا عَلَى التَّغْلِيظِ وَالتَّشْدِيدِ وَلَا رُخْصَةَ لِأَحَدٍ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے ارادہ کیا کہ اپنے کچھ نوجوانوں کو میں لکڑی کے گٹھر اکٹھا کرنے کا حکم دوں ، پھر نماز کا حکم دوں تو کھڑی کی جائے ، پھر میں ان لوگوں ( کے گھروں ) کو آگ لگا دوں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود ، ابو الدرداء ، ابن عباس ، معاذ بن انس اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- صحابہ میں سے کئی لوگوں سے مروی ہے کہ جو اذان سنے اور نماز میں نہ آئے تو اس کی نماز نہیں ہوتی ، ¤ ۴- بعض اہل علم نے کہا ہے کہ یہ برسبیل تغلیظ ہے ( لیکن ) ، کسی کو بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی اجازت نہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 217]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (791)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/ الأذان 29 (644)، و34 (657)، والخصومات 5 (242)، والأحکام 52 (7224)، صحیح مسلم/المساجد 42 (651)، سنن ابی داود/ الصلاة 47 (548، 549)، سنن النسائی/الإمامة 49 (849)، سنن ابن ماجہ/المساجد 17 (791)، (تحفة الأشراف: 14819)، موطا امام مالک/ صلاة الجماعة 1 (3)، مسند احمد (2/244، 376، 489، 531)، سنن الدارمی/الصلاة 54 (1310) (صحیح)