جامع الترمذي حدیث نمبر: 2167
Jami at-Tirmidhi 2167
کتاب #34: کتاب: ایام فتن کے احکام اور امت میں واقع ہونے والے فتنوں کی پیش گوئیاں
7: باب مَا جَاءَ فِي لُزُومِ الْجَمَاعَةِ
باب: مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ہمیشہ رہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنِي الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْمَدَنِيُّ، عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَا يَجْمَعُ أُمَّتِي، أَوْ قَالَ: أُمَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضَلَالَةٍ، وَيَدُ اللَّهِ مَعَ الْجَمَاعَةِ، وَمَنْ شَذَّ شَذَّ إِلَى النَّارِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَسُلَيْمَانُ الْمَدَنِيُّ هُوَ عِنْدِي سُلَيْمَانُ بْنُ سُفْيَانَ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَتَفْسِيرُ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ هُمْ أَهْلُ الْفِقْهِ وَالْعِلْمِ وَالْحَدِيثِ، قَالَ: وَسَمِعْتُ الْجَارُودَ بْنَ مُعَاذٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْحَسَنِ، يَقُولُ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ: مَنِ الْجَمَاعَةُ؟ فَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، قِيلَ لَهُ: قَدْ مَاتَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، قَالَ: فُلَانٌ وَفُلَانٌ، قِيلَ لَهُ: قَدْ مَاتَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَأَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ جَمَاعَةٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَبُو حَمْزَةَ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ، وَكَانَ شَيْخًا صَالِحًا، وَإِنَّمَا قَالَ هَذَا فِي حَيَاتِهِ عِنْدَنَا.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ میری امت کو یا یہ فرمایا : ” محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو گمراہی پر اکٹھا نہیں کرے گا ، اللہ کا ہاتھ ( اس کی مدد و نصرت ) جماعت کے ساتھ ہے ، جو شخص جماعت سے الگ ہوا وہ جہنم میں گرا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ، ¤ ۲- سلیمان مدنی میرے نزدیک سلیمان بن سفیان ہی ہیں ، ان سے ابوداؤد طیالسی ، ابوعامر عقدی اور کئی اہل علم نے روایت کی ہے ، ¤ ۳- اہل علم کے نزدیک ” جماعت “ سے مراد اصحاب فقہ اور اصحاب علم اور اصحاب حدیث ہیں ، ¤ ۴- علی بن حسین کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک سے پوچھا : جماعت سے کون لوگ مراد ہیں ؟ انہوں نے کہا : ابوبکر و عمر ، ان سے کہا گیا : ابوبکر و عمر تو وفات پا گئے ، انہوں نے کہا : فلاں اور فلاں ، ان سے کہا گیا : فلاں اور فلاں بھی تو وفات پا چکے ہیں تو عبداللہ بن مبارک نے کہا : ابوحمزہ سکری جماعت ہیں ۱؎ ، ¤ ۵- ابوحمزہ کا نام محمد بن میمون ہے ، وہ صالح اور نیک شیخ تھے ، عبداللہ بن مبارک نے یہ بات ہم سے اس وقت کہی تھی جب ابوحمزہ باحیات تھے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2167]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اگر ایک آدمی بھی صحیح عقیدہ و منہج پر ہو تو وہ اکیلے بھی جماعت ہے، اصل معیار صحیح عقیدہ و منہج پر ہونا ہے، نہ کہ بڑی تعداد میں ہونا، اس لیے تقلید کے شیدائیوں کا یہ کہنا کہ تقلید پر امت کی اکثریت متفق ہے، اس لیے مقلدین ہی سواد اعظم ہیں، سراسر مغالطہٰ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح دون
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2167) إسناده ضعيف ¤ سليمان بن سفيان المدني: ضعيف (تق: 2563) وقال ابن كثير الدمشقي: وقد ضعفه الأكثرون (تحفة الطالب 146/1 ح 36) وحديث الحاكم (116/1 ح 399 وسنده صحيح) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 7188) (صحیح) (سند میں ”سلیمان مدنی“ ضعیف ہیں، لیکن ”من شذ شذ إلى النار“ کے سوا دیگر ٹکڑوں کے صحیح شواہد موجود ہیں، دیکھیے ظلال الجنة رقم: 80)