جامع الترمذي حدیث نمبر: 2122
Jami at-Tirmidhi 2122
کتاب #31: کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
6: باب مَا جَاءَ يُبْدَأُ بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ
باب: قرض کی ادا کرنا وصیت پر مقدم ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَضَى بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ "، وَأَنْتُمْ تُقِرُّونَ الْوَصِيَّةَ قَبْلَ الدَّيْنِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ يُبْدَأُ بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ.
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت ( کے نفاذ ) سے پہلے قرض کی ادائیگی کا فیصلہ فرمایا ، جب کہ تم ( قرآن میں ) قرض سے پہلے وصیت پڑھتے ہو ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ عام اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ وصیت سے پہلے قرض ادا کیا جائے گا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2122]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے اشارہ قرآن کریم کی اس آیت «من بعد وصية يوصى بها أو دين» (النساء: ۱۲) کی طرف ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن ومضى (2189) أتم منه
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2122) إسناده ضعيف / جه 2739 ¤ الحارث الأعور ضعيف رافضي (د 908) و أبو إسحاق لم يسمع منه (تقدم: 107) وحديث ابن ماجه (الأصل: 2433) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم 2094 (حسن)