📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: نماز کے احکام و مسائل (كتاب الصلاة) 🏷️ باب: باب: اذان کے بعد آدمی کیا دعا پڑھے اس سے متعلق ایک اور باب۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 211 Jami at-Tirmidhi 211
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
45: باب مِنْهُ آخَرُ
باب: اذان کے بعد آدمی کیا دعا پڑھے اس سے متعلق ایک اور باب۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ الْبَغْدَادِيُّ , وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ إِلَّا حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَسَنٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ غَيْرَ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَأَبُو حَمْزَةَ اسْمُهُ: دِينَارٌ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اذان سن کر «اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته إلا حلت له الشفاعة يوم القيامة» ” اے اللہ ! اس کامل دعوت ۱؎ اور قائم ہونے والی صلاۃ کے رب ! ( ہمارے نبی ) محمد ( صلی الله علیہ وسلم ) کو وسیلہ ۲؎ اور فضیلت ۳؎ عطا کر ، اور انہیں مقام محمود ۴؎ میں پہنچا جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے “ کہا تو اس کے لیے قیامت کے روز شفاعت حلال ہو جائے گی ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ © جابر رضی الله عنہ کی حدیث محمد بن منکدر کے طریق سے حسن غریب ہے ، ہم نہیں جانتے کہ شعیب بن ابی حمزہ کے علاوہ کسی اور نے بھی محمد بن منکدر سے روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 211]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کامل دعوت سے مراد توحید کی دعوت ہے اس کے مکمل ہونے کی وجہ سے اسے «تامّہ» کے لفظ سے بیان کیا گیا ہے۔
۲؎: «وسیلہ» جنت میں ایک مقام ہے۔
۳؎: «فضیلہ» اس مرتبہ کو کہتے ہیں جو ساری مخلوق سے برتر ہو۔
۴؎: «مقام محمود» یہ وہ مقام ہے جہاں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی ان کلمات کے ساتھ حمد و ستائش کریں گے جو اس موقع پر آپ کو الہام کئے جائیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (722)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان 8 (614)، وتفسیر الإسراء 1 (4719)، سنن ابی داود/ الصلاة 38 (529)، سنن النسائی/الأذان 38 (681)، سنن ابن ماجہ/الأذان 4 (722)، (تحفة الأشراف: 3046)، مسند احمد (3/354) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #211
209 210 211 212 213
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ