جامع الترمذي حدیث نمبر: 2034
Jami at-Tirmidhi 2034
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
87: باب مَا جَاءَ فِي الْمُتَشَبِّعِ بِمَا لَمْ يُعْطَهُ
باب: آدمی کے پاس جو چیز نہ ہو اس پر اترانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أُعْطِيَ عَطَاءً فَوَجَدَ فَلْيَجْزِ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُثْنِ، فَإِنَّ مَنْ أَثْنَى فَقَدْ شَكَرَ، وَمَنْ كَتَمَ فَقَدْ كَفَرَ، وَمَنْ تَحَلَّى بِمَا لَمْ يُعْطَهُ كَانَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَعَائِشَةَ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: " وَمَنْ كَتَمَ فَقَدْ كَفَرَ " يَقُولُ: قَدْ كَفَرَ تِلْكَ النِّعْمَةَ.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جسے کوئی تحفہ دیا جائے پھر اگر اسے میسر ہو تو اس کا بدلہ دے اور جسے میسر نہ ہو تو وہ ( تحفہ دینے والے کی ) تعریف کرے ، اس لیے کہ جس نے تعریف کی اس نے اس کا شکریہ ادا کیا اور جس نے نعمت کو چھپا لیا اس نے کفران نعمت کیا ، اور جس نے اپنے آپ کو اس چیز سے سنوارا جو وہ نہیں دیا گیا ہے ، تو وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں اسماء بنت ابوبکر اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- «ومن كتم فقد كفر» کا معنی یہ ہے : اس نے اس نعمت کی ناشکری کی ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2034]
قال الشيخ الألباني:
حسن، الصحيحة (2617)، التعليق الرغيب (2 / 55)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2034) إسناده ضعيف ¤ أبو الزبير عنعن (تقدم:927) وللحديث طريق آخر ضعيف عند أبى داود (4813)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 2892) (حسن)