جامع الترمذي حدیث نمبر: 2025
Jami at-Tirmidhi 2025
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
78: باب مَا جَاءَ فِي ذِي الْوَجْهَيْنِ
باب: دو رخے شخص کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ذَا الْوَجْهَيْنِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ، وَعَمَّارٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن اللہ کی نظر میں دو رخے شخص سے بدتر کوئی نہیں ہو گا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں انس اور عمار رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2025]
💡 وضاحت:
۱؎: دو رخے شخص سے مراد ایسا آدمی ہے جو ایک گروہ کے پاس جائے تو اسے یہ یقین دلائے کہ تمہارا خیرخواہ اور ساتھی ہوں اور دوسرے کا مخالف ہوں، لیکن جب دوسرے گروہ کے پاس جائے تو اسے بھی اسی طرح کا تاثر دے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح صحيح الجامع (2226)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المناقب 1 (3494)، والأدب 52 (6058)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 48 (2526)، سنن ابی داود/ الأدب 39 (4872) (تحفة الأشراف: 12538)، و مسند احمد (2/455) (صحیح)