جامع الترمذي حدیث نمبر: 2022
Jami at-Tirmidhi 2022
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
75: باب مَا جَاءَ فِي إِجْلاَلِ الْكَبِيرِ
باب: بڑوں بوڑھوں کی عزت و احترام کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ بَيَانٍ الْعُقَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّحَّالِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَكْرَمَ شَابٌّ شَيْخًا لِسِنِّهِ إِلَّا قَيَّضَ اللَّهُ لَهُ مَنْ يُكْرِمُهُ عِنْدَ سِنِّهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هَذَا الشَّيْخِ يَزِيدَ بْنِ بَيَانٍ، وَأَبُو الرِّجَالِ الْأَنْصَارِيُّ آخَرُ.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو جوان کسی بوڑھے کا اس کے بڑھاپے کی وجہ سے احترام کرے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایسے لوگوں کو مقرر فرما دے گا جو اس عمر میں ( یعنی بڑھاپے میں ) اس کا احترام کریں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی شیخ یعنی یزید بن بیان کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- ابوالرجال انصاری ایک دوسرے راوی ہیں ( اور جو راوی اس حدیث میں ہیں وہ ابوالرحال ہیں ) ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2022]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الضعيفة (304)، المشكاة (4971) // ضعيف الجامع الصغير (5012) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(2022) إسناده ضعيف ¤ يزيد بن بيان وشيخه (أبو الرحال خالد بن محمد البصيري) ضعيفان (تق:7697،8096)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1716) (ضعیف) (سند میں یزید بن بیان، اور أبوالرحال دونوں ضعیف راوی ہیں)