جامع الترمذي حدیث نمبر: 2016
Jami at-Tirmidhi 2016
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
69: باب مَا جَاءَ فِي خُلُقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَال: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيَّ، يَقُولُ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا، وَلَا صَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ، وَلَا يَجْزِي بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيُّ اسْمُهُ عَبْدُ بْنُ عَبْدٍ، وَيُقَالُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدٍ.
ابوعبداللہ جدلی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو ، بدکلامی کرنے والے اور بازار میں چیخنے والے نہیں تھے ، آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے ، بلکہ عفو و درگزر فرما دیتے تھے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- ابوعبداللہ جدلی کا نام عبد بن عبد ہے ، اور عبدالرحمٰن بن عبد بھی بیان کیا گیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 2016]
💡 وضاحت:
۱؎: اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اخلاق اور کمال شرافت کا بیان ہے، اور اس بات کی صراحت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم برائی اور تکلیف پہنچانے والے سے عفو و درگذر سے کام لیتے تھے نہ کہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح مختصر الشمائل (298)، المشكاة (5820)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 17794)، وانظر: مسند احمد (6/174، 236، 246) (صحیح)