جامع الترمذي حدیث نمبر: 1981
Jami at-Tirmidhi 1981
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
51: باب مَا جَاءَ فِي الشَّتْمِ
باب: گالی گلوچ کی مذمت کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِي مِنْهُمَا مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ "، وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گالی گلوچ کرنے والے دو آدمیوں میں سے گالی کا گناہ ان میں سے شروع کرنے والے پر ہو گا ، جب تک مظلوم حد سے آگے نہ بڑھ جائے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں سعد ، ابن مسعود اور عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہم سے بھی حدیثیں مروی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1981]
💡 وضاحت:
۱؎: اگر مظلوم بدلہ لینے میں ظالم سے تجاوز کر جائے تو ایسی صورت میں دونوں کے گالی گلوج کا وبال اسی مظلوم کے سر ہو گا نہ کہ ظالم کے سر۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/البر والصلة 18 (2587)، سنن ابی داود/ الأدب 47 (4894) (تحفة الأشراف: 14053) (صحیح)