جامع الترمذي حدیث نمبر: 1972
Jami at-Tirmidhi 1972
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
46: باب مَا جَاءَ فِي الصِّدْقِ وَالْكَذِبِ
باب: سچ کی فضیلت اور جھوٹ کی برائی کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ هَارُونَ الْغَسَّانِيِّ: حَدَّثَكُمْ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا كَذَبَ الْعَبْدُ تَبَاعَدَ عَنْهُ الْمَلَكُ مِيلًا مِنْ نَتْنِ مَا جَاءَ بِهِ "، قَالَ يَحْيَى: فَأَقَرَّ بِهِ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ هَارُونَ، فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ هَارُونَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے فرشتہ اس سے ایک میل دور بھاگتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن جید غریب ہے ¤ ۲- یحییٰ بن موسیٰ کہتے ہیں : میں نے عبدالرحیم بن ہارون سے پوچھا : کیا آپ سے عبدالعزیز بن ابی داود نے یہ حدیث بیان کی ؟ کہا : ہاں ، ¤ ۳- ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں ، اس کی روایت کرنے میں عبدالرحیم بن ہارون منفرد ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1972]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا، الضعيفة (1828) // ضعيف الجامع الصغير (680) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1972) إسناده ضعيف جدًا ¤ عبدالرحيم بن ھارون: ضعيف،كذبه الدارقطني(تق: 4060)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 7767) (ضعیف جداً) (سند میں ”عبد الرحیم بن ہارون“ سخت ضعیف راوی ہے)