📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: نیکی اور صلہ رحمی (كتاب البر والصلة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: بھلائی کرنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1956 Jami at-Tirmidhi 1956
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
36: باب مَا جَاءَ فِي صَنَائِعِ الْمَعْرُوفِ
باب: بھلائی کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُرَشِيُّ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَأَمْرُكَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهْيُكَ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَإِرْشَادُكَ الرَّجُلَ فِي أَرْضِ الضَّلَالِ لَكَ صَدَقَةٌ، وَبَصَرُكَ لِلرَّجُلِ الرَّدِيءِ الْبَصَرِ لَكَ صَدَقَةٌ، وَإِمَاطَتُكَ الْحَجَرَ وَالشَّوْكَةَ وَالْعَظْمَ عَنِ الطَّرِيقِ لَكَ صَدَقَةٌ، وَإِفْرَاغُكَ مِنْ دَلْوِكَ فِي دَلْوِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَجَابِرٍ، وَحُذَيْفَةَ، وَعَائِشَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو زُمَيْلٍ اسْمُهُ سِمَاكُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحَنَفِيُّ.
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے بھائی کے سامنے تمہارا مسکرانا تمہارے لیے صدقہ ہے ، تمہارا بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا صدقہ ہے ، بھٹک جانے والی جگہ میں کسی آدمی کو تمہارا راستہ دکھانا تمہارے لیے صدقہ ہے ، نابینا اور کم دیکھنے والے آدمی کو راستہ دکھانا تمہارے لیے صدقہ ہے ، پتھر ، کانٹا اور ہڈی کو راستے سے ہٹانا تمہارے لیے صدقہ ہے ، اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میں تمہارا پانی ڈالنا تمہارے لیے صدقہ ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن مسعود ، جابر ، حذیفہ ، عائشہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1956]
💡 وضاحت:
۱؎: معلوم ہوا کہ اس حدیث میں مذکور سارے کام ایسے ہیں جن کی انجام دہی پر ثواب اسی طرح ملتا ہے جس طرح کسی صدقہ کرنے والے کو ملتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (572)
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 11975) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #1956
1954 1955 1956 1957 1958
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ