جامع الترمذي حدیث نمبر: 1952
Jami at-Tirmidhi 1952
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
33: باب مَا جَاءَ فِي أَدَبِ الْوَلَدِ
باب: لڑکے کو ادب سکھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَدًا مِنْ نَحْلٍ أَفْضَلَ مِنْ أَدَبٍ حَسَنٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَامِرِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ وَهُوَ عَامِرُ بْنُ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ الْخَزَّازُ، وَأَيُّوبُ بْنُ مُوسَى هُوَ ابْنُ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِي، وَهَذَا عِنْدِي حَدِيثٌ مُرْسَلٌ.
عمرو بن سعید بن عاص کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حسن ادب سے بہتر کسی باپ نے اپنے بیٹے کو تحفہ نہیں دیا “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف عامر بن ابوعامر خزاز کی روایت سے جانتے ہیں ، اور عامر صالح بن رستم خزاز کے بیٹے ہیں ، ¤ ۲- راوی ایوب بن موسیٰ سے مراد ایوب بن موسیٰ بن عمرو بن سعید بن عاص ہیں ، ¤ ۳- یہ حدیث میرے نزدیک مرسل ہے ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1952]
💡 وضاحت:
۱؎: اگر «جدہ» کی ضمیر کا مرجع «ایوب» ہیں تو ان کے دادا «عمرو بن سعید الأشرق» صحابی نہیں ہیں، اور اگر «جدہ» کی ضمیر کا مرجع «موسیٰ» ہیں تو ان کے دادا «سعید بن العاص» بہت چھوٹے صحابی ہیں، ان کا سماع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ہے، تب یہ روایت مرسل صحابی ہوئی۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الضعيفة (1121)، نقد الكتاني ص (20) // ضعيف الجامع الصغير (5227) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1952) إسناده ضعيف ¤ موسي بن عمرو بن سعيد أبو أيوب مستور (تق: 6995)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 4473) (ضعیف) (سند میں ”عامر بن صالح“ حافظہ کے کمزور ہیں، اور ”موسی بن عمرو“ مجہول الحال)