جامع الترمذي حدیث نمبر: 1945
Jami at-Tirmidhi 1945
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
29: باب مَا جَاءَ فِي الإِحْسَانِ إِلَى الْخَدَمِ
باب: خادم اور نوکر کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِخْوَانُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ فِتْيَةً تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِنْ طَعَامِهِ، وَلْيُلْبِسْهُ مِنْ لِبَاسِهِ، وَلَا يُكَلِّفْهُ مَا يَغْلِبُهُ، فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے خادم تمہارے بھائی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہارے زیر دست کر دیا ہے ، لہٰذا جس کے تحت میں اس کا بھائی ( خادم ) ہو ، وہ اسے اپنے کھانے میں سے کھلائے ، اپنے کپڑوں میں سے پہنائے اور اسے کسی ایسے کام کا مکلف نہ بنائے جو اسے عاجز کر دے ، اور اگر اسے کسی ایسے کام کا مکلف بناتا ہے ، جو اسے عاجز کر دے تو اس کی مدد کرے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں علی ، ام سلمہ ، ابن عمر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1945]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الإیمان 22 (30)، والتعق 15 (2545)، والأدب 44 (6050)، صحیح مسلم/الأیمان والنذور 10 (1661)، سنن ابن ماجہ/الأدب 10 (3690) (تحفة الأشراف: 11980)، و مسند احمد (5/158، 173) (صحیح)