جامع الترمذي حدیث نمبر: 1942
Jami at-Tirmidhi 1942
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
28: باب مَا جَاءَ فِي حَقِّ الْجِوَارِ
باب: پڑوسی کے حقوق کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے جبرائیل علیہ السلام پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ہمیشہ وصیت ( تاکید ) کرتے رہے ، یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ اسے وراثت میں ( بھی ) شریک ٹھہرا دیں گے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1942]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور اس کے حقوق کا خیال رکھنے کی اسلام میں کتنی اہمیت اور تاکید ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح المصدر نفسه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأدب 28 (6014)، صحیح مسلم/البر والصلة 42 (2624)، سنن ابی داود/ الأدب 132 (5151)، سنن ابن ماجہ/الأدب 4 (2673) (تحفة الأشراف: 17947)، و مسند احمد (6/91، 125) (صحیح)