جامع الترمذي حدیث نمبر: 1929
Jami at-Tirmidhi 1929
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ مِرْآةُ أَخِيهِ، فَإِنْ رَأَى بِهِ أَذًى فَلْيُمِطْهُ عَنْهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَيَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ضَعَّفَهُ شُعْبَةُ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے ہر آدمی اپنے بھائی کے لیے آئینہ ہے ، اگر وہ اپنے بھائی کے اندر کوئی عیب دیکھے تو اسے ( اطلاع کے ذریعہ ) دور کر دے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- شعبہ نے یحییٰ بن عبیداللہ کو ضعیف کہا ہے ، ¤ ۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1929]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا، الضعيفة (1889) // ضعيف الجامع الصغير (1371) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1929) إسناده ضعيف جدًا ¤ يحيي بن عبيدالله: متروك وأفحش الحاكم فرماه بالوضع (تق: 7599) وقال الھيثمي: وقد ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 319/10) وحديث أبى داود(4918) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 14121) (ضعیف جداً) (سند میں یحییٰ بن عبید اللہ متروک الحدیث راوی ہے)