جامع الترمذي حدیث نمبر: 1912
Jami at-Tirmidhi 1912
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
13: باب مَا جَاءَ فِي النَّفَقَةِ عَلَى الْبَنَاتِ وَالأَخَوَاتِ
باب: لڑکیوں اور بہنوں کی پرورش کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَكُونُ لِأَحَدِكُمْ ثَلَاثُ بَنَاتٍ، أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ فَيُحْسِنُ إِلَيْهِنَّ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ"، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، وَأَنَسٍ، وَجَابِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ اسْمُهُ سَعْدُ بْنُ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ هُوَ سَعْدُ بْنُ مَالِكِ بْنِ وُهَيْبٍ، وَقَدْ زَادُوا فِي هَذَا الْإِسْنَادِ رَجُلًا.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کسی کے پاس تین لڑکیاں یا تین بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو جنت میں ضرور داخل ہو گا ۔“ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابو سعید خدری کا نام سعد بن مالک بن سنان ہے ، اور سعد بن ابی وقاص کا نام سعد بن مالک بن وہیب ہے ، ¤ ۲- اس حدیث کی دوسری سند میں راویوں نے ( سعید بن عبدالرحمٰن اور ابوسعید کے درمیان ) ایک اور راوی ( ایوب بن بشیر ) کا اضافہ کیا ہے ، ¤ ۳- اس باب میں عائشہ ، عقبہ بن عامر ، انس ، جابر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1912]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف انظر ما قبله (1911) // ضعيف الجامع الصغير (6369) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1912) إسناده ضعيف ¤ السند منقطع والحديث الآتي (الأصل: 1916) يغني عنه
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأدب 130 (5147) (تحفة الأشراف: 4041)، و یأتي برقم 1916 (صحیح) (اس کے راوی سعید بن عبدالرحمن الأعشی مقبول راوی ہیں، اور اس باب میں وارد احادیث کی بنا پر یہ صحیح ہے، جس کی طرف امام ترمذی نے اشارہ کر دیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب 1973، و الادب المفرد باب من أعلى جاريتين أو واحدة والباب الذي بعده، وتراجع الالبانی 409، والسراج المنیر 2/1049)