جامع الترمذي حدیث نمبر: 1903
Jami at-Tirmidhi 1903
کتاب #28: کتاب: نیکی اور صلہ رحمی
5: باب مَا جَاءَ فِي إِكْرَامِ صَدِيقِ الْوَالِدِ
باب: باپ کے دوست کی عزت و تکریم کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ أَنْ يَصِلَ الرَّجُلُ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ "، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي أَسِيدٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” سب سے بہتر سلوک اور سب سے اچھا برتاؤ یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ صلہ رحمی کرے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ سند صحیح ہے ، یہ حدیث ابن عمر رضی الله عنہما سے کئی سندوں سے آئی ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابواسید رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1903]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الضعيفة (2089)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/البر والصلة 4 (2552)، سنن ابی داود/ الأدب 129 (5143)، (تحفة الأشراف: 7259) (صحیح)