جامع الترمذي حدیث نمبر: 1882
Jami at-Tirmidhi 1882
کتاب #27: کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
12: باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الشُّرْبِ قَائِمًا
باب: کھڑے ہو کر پینے کی رخصت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، وَمُغِيرَةُ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " شَرِبَ مِنْ زَمْزَمَ وَهُوَ قَائِمٌ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَسَعْدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَائِشَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر زمزم کا پانی پیا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں علی ، سعد ، عبداللہ بن عمرو اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1882]
💡 وضاحت:
۱؎: ممکن ہے ایسا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان جواز کے لیے کیا ہو، اس کا بھی امکان ہے کہ بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے بیٹھنے کی جگہ نہ مل سکی ہو، یا وہاں خشک جگہ نہ رہی ہو، اس لیے آپ نہ بیٹھے ہوں، یہ عام خیال بالکل غلط ہے کہ زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پینا سنت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3422)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحج 76 (1637)، والأشربة 6 (5617)، صحیح مسلم/الأشربة 15 (2027)، سنن النسائی/الحج 65 (2967)، و 66 (2968)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 21 (3422)، والمؤلف في الشمائل 31 (197، 198، 199)، (تحفة الأشراف: 5767)، و مسند احمد (1/214، 220، 342) (صحیح)