📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: نماز کے احکام و مسائل (كتاب الصلاة) 🏷️ باب: باب: جب امام نماز دیر سے پڑھے تو اسے جلد پڑھ لینے کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 176 Jami at-Tirmidhi 176
کتاب #2: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
17: باب مَا جَاءَ فِي تَعْجِيلِ الصَّلاَةِ إِذَا أَخَّرَهَا الإِمَامُ
باب: جب امام نماز دیر سے پڑھے تو اسے جلد پڑھ لینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ , قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ أُمَرَاءُ يَكُونُونَ بَعْدِي يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ، فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ صُلِّيَتْ لِوَقْتِهَا كَانَتْ لَكَ نَافِلَةً وَإِلَّا كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ ". وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ حَسَنٌ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا إِذَا أَخَّرَهَا الْإِمَامُ، ثُمَّ يُصَلِّي مَعَ الْإِمَامِ، وَالصَّلَاةُ الْأُولَى هِيَ الْمَكْتُوبَةُ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَأَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ اسْمُهُ: عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ حَبِيبٍ.
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوذر ! میرے بعد کچھ ایسے امراء ( حکام ) ہوں گے جو نماز کو مار ڈالیں گے ۱؎ ، تو تم نماز کو اس کے وقت پر پڑھ لینا ۲؎ نماز اپنے وقت پر پڑھ لی گئی تو امامت والی نماز تمہارے لیے نفل ہو گی ، ورنہ تم نے اپنی نماز محفوظ کر ہی لی ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس باب میں عبداللہ بن مسعود اور عبادہ بن صامت رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۲- ابوذر رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے ، ¤ ۳- یہی اہل علم میں سے کئی لوگوں کا قول ہے ، یہ لوگ مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی نماز اپنے وقت پر پڑھ لے جب امام اسے مؤخر کرے ، پھر وہ امام کے ساتھ بھی پڑھے اور پہلی نماز ہی اکثر اہل علم کے نزدیک فرض ہو گی ۳؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 176]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اسے دیر کر کے پڑھیں گے۔
۲؎: یہی صحیح ہے اور باب کی حدیث اس بارے میں نص صریح ہے، اور جو لوگ اس کے خلاف کہتے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔
۳؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ امام جب نماز کو اس کے اول وقت سے دیر کر کے پڑھے تو مقتدی کے لیے مستحب ہے کہ اسے اول وقت میں اکیلے پڑھ لے، ابوداؤد کی روایت میں «صل الصلاة لوقتها فإن أدركتها معهم فصلها فإنها لك نافلة» تم نماز وقت پر پڑھ لو پھر اگر تم ان کے ساتھ یہی نماز پاؤ تو دوبارہ پڑھ لیا کرو، یہ تمہارے لیے نفل ہو گی، ظاہر حدیث عام ہے ساری نمازیں اس حکم میں داخل ہیں خواہ وہ فجر کی ہو یا عصر کی یا مغرب کی، بعضوں نے اسے ظہر اور عشاء کے ساتھ خاص کیا ہے، وہ کہتے ہیں فجر اور عصر کے بعد نفل پڑھنا درست نہیں اور مغرب دوبارہ پڑھنے سے وہ جفت ہو جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1256)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/المساجد 41 (648)، سنن ابی داود/ الصلاة 10 (431)، سنن النسائی/الإمامة 2 (779)، و55 (860)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 150 (1256)، (تحفة الأشراف: 11950)، مسند احمد (5/168، 169)، سنن الدارمی/الصلاة 26 (1264) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #176
174 175 176 177 178
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ