جامع الترمذي حدیث نمبر: 1715
Jami at-Tirmidhi 1715
کتاب #24: کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
35: باب مَا جَاءَ لاَ تُفَادَى جِيفَةُ الأَسِيرِ
باب: قیدی کی سڑی ہوئی لاش بیچی نہیں جائے گی۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ الْمُشْرِكِينَ أَرَادُوا أَنْ يَشْتَرُوا جَسَدَ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَأَبَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَهُمْ إِيَّاهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحَكَمِ، وَرَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ أَيْضًا عَنْ الْحَكَمِ، وقَالَ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ: سَمِعْتُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، يَقولُ: ابْنُ أَبِي لَيْلَى لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ، وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل: ابْنُ أَبِي لَيْلَى صَدُوقٌ وَلَكِنْ لَا نَعْرِفُ صَحِيحَ حَدِيثِهِ مِنْ سَقِيمِهِ وَلَا أَرْوِي عَنْهُ شَيْئًا، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى صَدُوقٌ فَقِيهٌ، وَرُبَّمَا يَهِمُ فِي الْإِسْنَادِ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، قَالَ: فُقَهَاؤُنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شُبْرُمَةَ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ مشرکین نے ایک مشرک کی لاش کو خریدنا چاہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیچنے سے انکار کر دیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے صرف حکم کی روایت سے جانتے ہیں ، اس کو حجاج بن ارطاۃ نے بھی حکم سے روایت کیا ہے ، ¤ ۳- احمد بن حنبل کہتے ہیں : ابن ابی لیلیٰ کی حدیث قابل حجت نہیں ہے ، ¤ ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : ابن ابی لیلیٰ صدوق ہیں لیکن ہم کو ان کی صحیح حدیثیں ان کی ضعیف حدیثوں سے پہچان نہیں پاتے ، میں ان سے کچھ نہیں روایت کرتا ہوں ، ابن ابی لیلیٰ صدوق ہیں فقیہ ہیں ، لیکن بسا اوقات ان سے سندوں میں وہم ہو جاتا ہے ، ¤ ۵- سفیان ثوری کہتے ہیں : ہمارے فقہاء ابن ابی لیلیٰ اور عبداللہ بن شبرمہ ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1715]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1715) إسناده ضعيف ¤ محمد ابن أبى ليلي:ضعيف (تقدم: 194)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: 6475) (ضعیف) (اس کے راوی محمد بن ابی لیلیٰ ضعیف ہیں)