جامع الترمذي حدیث نمبر: 1700
Jami at-Tirmidhi 1700
کتاب #24: کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
22: باب مَا جَاءَ فِي الرِّهَانِ وَالسَّبَقِ
باب: گھڑ دوڑ میں شرط لگانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا سَبَقَ إِلَّا فِي نَصْلٍ، أَوْ خُفٍّ، أَوْ حَافِرٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا : ” مقابلہ صرف تیر ، اونٹ اور گھوڑوں میں جائز ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1700]
💡 وضاحت:
۱؎: بشرطیکہ یہ انعام کا مال مقابلے میں حصہ لینے والوں کی طرف سے نہ ہو، اگر ان کی طرف سے ہے تو یہ قمار و جوا ہے جو جائز نہیں ہے، معلوم ہوا کہ مقررہ انعام کی صورت میں مقابلے کرانا درست ہے، لیکن یہ مقابلے صرف انہی کھیلوں میں جائز ہیں، جن کے ذریعہ نوجوانوں میں جنگی و دفاعی ٹریننگ ہو، کبوتر بازی، غلیل بازی، پتنگ بازی وغیرہ کے مقابلے تو سراسر ذہنی عیاشی کے سامان ہیں، موجودہ دور کے کھیل بھی بیکار ہی ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2878)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الجہاد 67 (2574)، سنن النسائی/الخیل 14 (3615، 3616، 3619)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 44 (2878)، (تحفة الأشراف: 14638)، و مسند احمد (2/256، 358، 425، 474) (صحیح)