جامع الترمذي حدیث نمبر: 1689
Jami at-Tirmidhi 1689
کتاب #24: کتاب: جہاد کے احکام و مسائل
15: باب مَا جَاءَ فِي الثَّبَاتِ عِنْدَ الْقِتَالِ
باب: جنگ میں دشمن کے مقابلے میں ڈٹ جانے اور ثابت قدم رہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " لَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ حُنَيْنٍ وَإِنَّ الْفِئَتَيْنِ لَمُوَلِّيَتَانِ، وَمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةُ رَجُلٍ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ غزوہ حنین کے دن ہماری صورت حالت یہ تھی کہ مسلمانوں کی دونوں جماعت پیٹھ پھیرے ہوئی تھی ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سو آدمی بھی نہیں تھے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اسے ہم عبیداللہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1689]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 7894) (صحیح الإسناد)