جامع الترمذي حدیث نمبر: 1663
Jami at-Tirmidhi 1663
کتاب #23: کتاب: فضائل جہاد
25: باب فِي ثَوَابِ الشَّهِيدِ
باب: شہید کے ثواب کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ سِتُّ خِصَالٍ: يُغْفَرُ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْعَةٍ، وَيَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَيَأْمَنُ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ الْيَاقُوتَةُ مِنْهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَيُزَوَّجُ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، وَيُشَفَّعُ فِي سَبْعِينَ مِنْ أَقَارِبِهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
مقدام بن معدیکرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے نزدیک شہید کے لیے چھ انعامات ہیں ، ( ۱ ) خون کا پہلا قطرہ گرنے کے ساتھ ہی اس کی مغفرت ہو جاتی ہے ، ( ۲ ) وہ جنت میں اپنی جگہ دیکھ لیتا ہے ، ( ۳ ) عذاب قبر سے محفوظ رہتا ہے ، ( ۴ ) «فزع الأكبر» ( عظیم گھبراہٹ والے دن ) سے مامون رہے گا ، ( ۵ ) اس کے سر پر عزت کا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ، ( ۶ ) بہتر ( ۷۲ ) جنتی حوروں سے اس کی شادی کی جائے گی ، اور اس کے ستر رشتہ داروں کے سلسلے میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1663]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ چھ خصلتیں ایسی ہیں کہ شہید کے سوا اور کسی کو حاصل نہیں ہوں گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح أحكام الجنائز (35 - 36)، التعليق الرغيب (2 / 194)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الجہاد 16 (2799)، (تحفة الأشراف: 11556)، و مسند احمد (4/131) (صحیح)