جامع الترمذي حدیث نمبر: 1660
Jami at-Tirmidhi 1660
کتاب #23: کتاب: فضائل جہاد
24: باب مَا جَاءَ أَىُّ النَّاسِ أَفْضَلُ
باب: کون آدمی افضل و بہتر ہے؟
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " رَجُلٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَتَّقِي رَبَّهُ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : کون آدمی افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” وہ شخص جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے “ ، صحابہ نے پوچھا : پھر کون ؟ آپ نے فرمایا : ” پھر وہ مومن جو کسی گھاٹی میں اکیلا ہو اور اپنے رب سے ڈرے اور لوگوں کو اپنے شر سے بچائے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1660]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے قطعاً یہ نہ سمجھنا چاہیئے کہ اس حدیث میں رہبانیت کی دلیل ہے، کیونکہ بعض احادیث میں «ويؤتى الزكاة» کی بھی صراحت ہے، اور رہبانیت کی زندگی گزارنے والا جب مال کمائے گا ہی نہیں تو زکاۃ کہاں سے ادا کرے گا، علما کا کہنا ہے کہ گھاٹیوں میں جانے کا وقت وہ ہو گا جب دنیا فتنوں سے بھر جائے گی اور وہ دور شاید بہت قریب ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، التعليق الرغيب (2 / 173)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجہاد 2 (2786)، والرقاق 34 (6494)، صحیح مسلم/الإمارة 34 (1888)، سنن ابی داود/ الجہاد 5 (2485)، سنن النسائی/الجہاد 7 (3107)، سنن ابن ماجہ/الفتن 13 (3978)، (تحفة الأشراف: 4151)، و مسند احمد (3/16، 37، 56، 88) (صحیح)