جامع الترمذي حدیث نمبر: 1542
Jami at-Tirmidhi 1542
کتاب #21: کتاب: نذر اور قسم (حلف) کے احکام و مسائل
14: باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَلْطِمُ خَادِمَهُ
باب: خادم کو طمانچہ مارنے والے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: " لَقَدْ رَأَيْتُنَا سَبْعَةَ إِخْوَةٍ مَا لَنَا خَادِمٌ إِلَّا وَاحِدَةٌ، فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعْتِقَهَا " قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَذَكَرَ بَعْضُهُمْ فِي الْحَدِيثِ قَالَ: " لَطَمَهَا عَلَى وَجْهِهَا ".
سوید بن مقرن مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صورت حال یہ تھی کہ ہم سات بھائی تھے ، ہمارے پاس ایک ہی خادمہ تھی ، ہم میں سے کسی نے اس کو طمانچہ مار دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم اس کو آزاد کر دیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اسے حصین بن عبدالرحمٰن سے کئی لوگوں نے روایت کیا ہے ، بعض لوگوں نے اپنی روایت میں یہ ذکر کیا ہے کہ سوید بن مقرن مزنی نے «لطمها على وجهها» کہا یعنی ” اس نے اس کے چہرے پر طمانچہ مارا “ ۔ ¤ ۳- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1542]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الأیمان 8 (1658)، سنن ابی داود/ الأدب 133 (5166)، (تحفة الأشراف: 4811)، و مسند احمد (3/448)، و (5/444) (صحیح)